اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے مشرق وسطی، شمالی افریقہ، یورپ اور شمالی امریکہ کے امور کے سربراہ اور جینوا میں کمیٹی کے مواصلات کے انچارج «واسيلي فادوف» اور ایران میں ریڈ کراس کمیٹی کے کوراڈینیٹر «جان اسٹرک وان لينسخوتن John Strick Van Linschoten» نے عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام و المسلمین کے ساتھ بات چیت کی ہے.
یہ ملاقات سوموار کے روز تہران میں واقع اسمبلی کے مرکزی دفتر میں ہوئی اور واسیلی فادوف نے گذشتہ ایک سال کے دوران افغانستان، پاكستان، يمن، غزہ، سوڈان اور دیگر افریقی ممالک میں اپنی اور اپنے ادارے کی کارکردگی رپورٹ پیش کی اور کہا: میری اور میرے رفقائے کار کا بنیادی مقصد "جانوں کی حفاظت" ہے کیونکہ عراق پر امریکی حملے سے لے کر اب تک ریڈ کراس کمیٹی کے پانچ اہلکار مارے جاچکے ہیں اور ایک اہلکار کو علاقی دارفور میں یرغمال بنایا گیا ہے اور یہ مسئلہ لوگوں کو امداد اور ریلیف پہنچانے کے سلسلے میں ہماری فرائض منصبی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے... جنگزدہ افراد کو مدد پہنچانے کے لئے حماس، حزب اللہ حتی طالبان کے ساتھ ہمارے اعلی سطحی تعلقات ہیں... عراقی بیواؤں کو مدد فراہم کرنا بھی ریڈ کراس کی ذمہ داری ہے؛ حتی کہ ہم نے عراق میں موجودہ تشدد کے بارے میں ایک خبرنامہ تیار کیا ہے اور اس خبرنامے کا مقصد دنیا والوں کو یہ بتانا ہے کہ عراق کے مظلوم عوام بدستور تشدد اور دہشت گردی کا شکار ہیں.
انھوں نے کہا کہ ہماری ایک ذمہ داری فلسطینیوں کے لئے اسرائیل جاکر اپنے اسیر عزیزوں سے ملاقات کے لئے اقدامات کرنا ہے.
انھوں نے آخر میں گولڈسٹون کی رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سے آر سی) نے بجت کی کمی کے باوجود امداد رسانی کے شعبے میں بہت اہم اور وسیع کار کردگی دکھائی ہے.
حجت الاسلام اختری نے اس ملاقات میں ریڈ کراس کمیٹی کی کارکردگی اور دین اسلام کی تعلیمات کے درمیان قریبی تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انسان دوستی پر مبنی سرگرمیوں اور غربت کے خاتمے کا ہمارے دین کی تعلیمات کے ساتھ بہت قریبی تعلق ہے... ریڈ کراس کے پاس بہت اچھے امکانات ہیں اور ان ہی امکانات کی بدولت ریڈ کراس کمیٹی دنیا کے محروم اور جنگ زدہ خطوں سمیت غزہ جیسے علاقے میں بھی کام کرسکتی ہے مگر بدخواہ قوتوں کی رکاوٹوں سمیت متعدد وجوہات کی بنا پر ان تمام امکانات سے استفادہ نہیں کیا جاتا؛ مثال کے طور پر غزہ کے عوام کو ایندھن، اشیائی خورد و نوش اور ادویات کی اشد ضرورت ہے اور اس حوالے سے مصری حکومت کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا ہے تا ہم ریڈ کراس کمیٹی اس سلسلے میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے.
انھوں نے کہا: اس حوالے سے گولڈ اسٹون کی رپورٹ ایک اہم قدم ہے اور ہمیں امید ہے کہ ریڈ کراس کمیٹی کی مدد سے غزہ کی ناکہ بندی کا بھی خاتمہ ہو.
انھوں نے عراقی بیواؤں اور یتیموں کو امداد فراہم کرنے کے سلسلے میں ریڈ کراس کمیٹی کے اقدامات کو سراہا اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کا مطالبہ کیا.
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ یمن کی صورت حال کے بارے میں متعلقہ بین الاقوامی اداوں کو بروقت رپورٹ پیش کرکے اس ملک میں انسانی المیے کا سد باب کرے.
انھوں نے براعظم افریقہ کی مسائل و مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جنوبی افریقہ میں ایڈز اور ملیریا کے خلاف جدوجہد ریڈ کراس کمیٹی کی ترجیح ہونی چاہئے کیوں کہ ان بیماریوں کے خاتمے کے لئے اس وقت بھرپور وسائل موجود ہیں اور ریڈ کراس کمیٹی ان وسائل سے استفادہ کرکے سنجیدگی کے ساتھ اس سلسلے میں اقدام کرے.
حجت الاسلام اختري نے کہا کہ غربت، مضر صحت اشیائے خورد و نوش اور بھوک و افلاس افریقہ کی دیگر مشکلات ہیں.
انھوں نے کہا امریکیوں کی موجودگی اور امریکہ کی طرف سے بعض منفی قوتوں کی حمایت کہ دنیا میں بہت سے مشکلات کا سرچشمہ ہے اور ریڈ کراس کمیٹی کو چاہئے کہ روس، چین، اور غیر وابستہ و غیر جانبدار ممالک کی مدد سے امریکہ پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر قتل عام، جرم اور ظلم سے باز آئے.
جناب اختری نے سعودی عرب میں انسانی حقوق اور خاص طور پر شیعیان اہل بیت (ع) کے حقوق کی پامالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: گو کہ سعودی عرب میں جمہوری اصول موجود ہی نہیں ہیں مگر چونکہ اس ملک کے حکام کے امریکی حکام کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہیں اسی لئے سعودی حکام پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جاتا.
شام میں ایران کے سابق سفیر نے صہیونی جیلوں میں ایران کے چار مظلوم شہریوں کی اسارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ریڈ کراس کمیٹی اس سلسلے میں بھی کردار ادا کرتے ہوئے ایرانی اسیروں کے خاندانوں اور اعزاء و اقارب کو ان کے بارے میں باوثوق معلومات فراہم کرکے بہترین تحفہ دے سکتی ہے.
انھوں نے واسیلی وادوف کو ایرانی اسیروں کے خاندانوں سے ملاقات کی تجویز دی اور کہا کہ اسیروں کے بارے میں مفید معلومات ان کے خاندانوں کے پاس ہیں جن کی روشنی میں ریڈ کراس کمیٹی کو ان کے سلسلے میں مؤثر تحقیقات کرنے میں مدد مل سکتی ہیں.
انھوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کی جیلوں میں قید ایرانی اسیروں کے بارے میں عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی بھی ریڈ کراس کمیٹی کی مدد کرسکتی ہے.
انھوں نے آخر میں جناب وادوف کے لئے ان کے فرائض منصبی میں کامیابی کی امید ظاہر کی.
قابل ذکر ہے کہ ایران میں ریڈ کراس کمیٹی کے کوراڈینیٹر «جان اسٹرک وان لينسخوتن John Strick Van Linschoten» مسلمان اور شيعہ مذہب کے پیروکار ہیں.